پاکستان کی 450 ارب ڈالر کی کل معیشت کے مقابلے میں 4520 ارب ڈالر کی دیو ہیکل معیشت والے انڈیا میں اس وقت ہر طرف کارکروچ جنتا پارٹی اور اس کے نوجوان سربراہ ابھیجیت دپکے کا ڈنکا بج رہا ہے جو حالیہ دنوں میں جنزی (جنریشن زیGeneration Zee ) کی ایک بڑی تحریک کے طور پر دنیا کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہے ہیں۔ گزشتہ تین الیکشن بھاری اکثریت سے جیت کر انڈیا کے راج سنگھاسن پر براجمان نریندرسنگھ مودی کو سالوں بعد پہلی دفعہ اپنے سامنے ایک حقیقی اپوزیشن ابھرتی محسوس ہو رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ 2029 کے جنرل الیکشن میں نریندرمودی کو راہول گاندھی کی کانگرس کے ساتھ ساتھ ابھیجیت دپکے کی کاکروچ جنتا پارٹی کی شکل میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کارکروچ پارٹی کی طاقت کا مرکز و محور دہلی یونیورسٹی ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ دہلی یونیورسٹی میں ایک انقلاب نمو پارہا ہے بلکہ اس سے پہلے بھی 1942 کی انڈیا چھوڑ دو کی تحریک ہو یا 1976 کی اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے خلاف تحریک، دہلی یونیورسٹی اس طرح کی عوامی تحاریک کا مرکز رہی ہے۔ جنریشن زی کی حالیہ مہم بھی اسی یونیورسٹی میں پروان چڑھی ہے اور پھر الہ آباد یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور دیگر یورنیورسٹیوں کے نوجوان طلبا اسے ایک ملک گیر تحریک میں بدلنے میں کامیاب ہو ئے ہیں۔
اس سے پہلے بنگلہ دیش کی ڈھاکہ یونیورسٹی جنزی کے 2024 کے انقلاب کا مرکز بنی تھی۔ بنگلہ دیش کی تمام بڑی اپوزیشن جماعتیں بشمول بنگلہ دیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی ، بنگلہ دیش کی آئرن لیڈی شیخ حسینہ واجد کے سامنے دم نہیں مار سکتیں تھیں۔ بنگلہ دیش کے موجودہ وزیراعظم طارق رحمان ایک طویل مدت تک خود ساختہ جلاوطنی پر مجبور رہے جبکہ جماعت اسلامی کے درجنوں رہنما موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے تھے مگر شیخ حسینہ واجد کا اقتدار ایک آہنی قلعہ ثابت ہو رہا تھا جس میں نقب لگانے کی کوشش اپنی موت کو دعوت دینا تھا تاہم ڈھاکہ یونیورسٹی کی راہداریوں میں جنم لینے والا انقلاب بنگلہ دیش میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوا اور شیخ حسینہ واجد بمشکل جان بچا کر بھارت میں پناہ لینے میں کامیاب ہو سکی۔ اگر چہ اگلے قومی انتخابات میں جنزی کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ بنگلہ دیش کی جنریشن زی ہی وہ قوت تھی جس نے عوامی لیگ کے اقتدار کا قلعہ مسمار کیا۔
مشرقی افریقہ کے مسلمان ملک سوڈان میں بھی حالیہ تاریخ کے تمام انقلابات کے تانے بانے بھی خرطوم یونیورسٹی سے ملتے ہیں ۔ عمر البشیر جیسے آہنی حکمران کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی انقلابی تحریک کو سوڈان یونیورسٹی کی دھان پان سی لڑکی اعلیٰ صلاح نے لیڈ کیا اور اپنے لئے اپنی قوم سے" کنداکے" کا لقب بھی حاصل کیا۔ یاد رہے کہ "کنداکے" کا لقب سب سے پہلے 24 قبل مسیح میں اس وقت کے سوڈان (کش) کی ملکہ کو دیا گیا تھا جس نے رومی بادشاہ زار آگسٹس کی فوجوں کو اس وقت اپنے 30 ہزار سپاہیوں سے شکست دی تھی جب تمام مرد جرنیل رومیوں سے شکست تسلیم کر چکے تھے۔ پھر یہی "کنداکے" کا لقب تمام بادشاہوں کے مائوں اور ملکائوں وغیرہ کے لئے مستعمل رہا ۔ تاہم 2019 میں عمر البشیر کے اقتدار کا خاتمہ کرنے والی اعلیٰ صلاح کو بھی سوڈانی قوم نے اسی لقب سے نوازا۔
بوسنیائی مسلمانوں کے قاتل اور بلقان کے قصاب کے لقب سے مشہور سربیا کے حکمران سلوبودان ملاسووچ کی بدنام زمانہ حکومت کو ختم کرنے میں بنیادی کردار بلغراد یونیورسٹی کے طلباء نے ادا کیا تھا جب انہوں نےاکتوبر 2000 میں بلڈوزر انقلاب میں سلوبودان کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا ۔ اگلے چند سال میں اسے جنگی جرائم کے ارتکاب کے جرم میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے حوالے کر دیا گیا تھا ۔
ماضی کے برما اور موجودہ ماینمار کی یانگون یونیورسٹی بھی ہمیشہ سے انقلاب کا مرکز رہی ۔ انگریز راج کے خلاف 1920 کی اپ رائزنگ سے لے کر آنگ سانگ سو چی کے برما میں 1988 کی اپ رائزنگ اور 2021ء میں فوجی جنتا کی بغاوت خلاف اٹھنے والے تحاریک کا مرکز یانگون یونیورسٹی ہی رہی ہے۔ فوجی اقتدار تلے دبی ماینمار کی سیاسی قیادت آج بھی یانگون یونیورسٹی سے امیدیں لگائے بیٹھی ہے کہ کہ تبدیلی کا کوئی دیا جلے گا تو اسی تعلیمی ادارے سے ہی اس کی امید ہے۔
امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی اور کیلیفورنیا یونیورسٹی ہوں یا فرانس کی پیرس یونیورسٹی، پولینڈ کی وارسا یونیورسٹی ہو یا ایران کی تہران یونیورسٹی، میکسیکو کی یونام ہو یا جمہوریہ چیک کی چارلس یونیورسٹی، رومانیہ کی بخارسٹ یونیورسٹی ہو یا پھر اٹلی کی بولونگا یونیورسٹی ،جنوبی کوریا کی یون سی یونیورسٹی ہو یا پھر نائجیریا کی یونیورسٹی آ ف لاگوس ۔۔۔ اپنے ملکوں میں کسی بھی سیاسی و سماجی تبدیلی کا مرکز یہ ہی یونیورسٹیاں رہی ہیں۔ ان ممالک کی عوام بجا طور پر امید رکھتے ہیں کہ ان اعلیٰ تعلیمی اداروں پر پڑھنے والے نوجوان ہی وہ سورج ہیں جو ان ملکوں پر چھائے اندھیروں کو مٹا کر امید کی روشنی پھیلا سکتے ہیں ۔
تاہم اس منظر نامے میں اپنے ملک کا منظر ہمیں انتہائی مایوس کن نظر آتا ہے ۔ ہماری جنریشن زی جو ہمارا مستقبل ہے انہی تعلیمی اداروں میں آمدہ چیلنجز کی تیاری کرتا دکھائی دیتا ہے مگر عملی طور پر وہ دگرگو ں ملکی حالات سے مایوس بھی ہے اور بہت حد تک لا تعلق بھی۔ ہماری یونیورسٹیاں گزشتہ کئی عشروں سے کسی قابل فخر معاملے پر خبروں میں نہیں رہیں ۔ جب بھی وہاں سے کوئی خبر ملکی منظر نامے پر پھیلتی ہے تو وہ کسی علاقائی و لسانی تنظیموں کے درمیان دنگے فساد کی خبر ہوتی ہے، ان یونیورسٹیوں کے بینک کرپٹ ہوتی مالی حالات کی خبر ہوتی ہے یا پھر کسی کلچرل ڈے یا نائٹ پر کسی پروفیسر صاحب کے ڈانس کرنے اور پھر ان کے حق اور مخالفت میں برپا مہم کی خبر ہوتی ہے۔
یہ بھی نہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں ہمیشہ سے انہی حالات سے دوچار تھیں۔ ہم نے پنجاب یونیورسٹی سے اٹھنے والی اپنے وقت کی جنزی کی ایسی مختلف ہمہ گیر تحریکوں کے بارے میں پڑھا ہے جنہوں نے ملکی سیاست اور سماجی حالات کا نقشہ بدل کر رکھ دیا تھا ۔ ہم نے بارک اللہ خان، جاوید ہاشمی اور فرید پراچہ کے راہنمائی میں چلنے والی ملک گیر طلبہ تحریکوں کے بارے میں پڑھا ہے، ہم نے معراج محمد خان، جام ساقی اور جہانگیر بدر کی ترقی پسند طلبہ تحاریک کے بارے میں پڑھا ہے، ہم نے حافظ ادریس ، سلمان بٹ اور لیاقت بلوچ کی اسلام پسند طلبہ تحاریک کے بارے میں پڑھا ہے ، ہم نے عبدالحئ بلوچ، فتح یاب علی خان اور مدد علی سندھی کی قوم پرست طلبہ تحاریک کے بارے پڑھا ہے اور ان لوگوں کے قیادت میں پنجاب یونیورسٹی ، کراچی یونیورسٹی اور جامشورو یونیورسٹی سے جنم لیتے مختلف انقلابات کے بارے میں پڑھا ہے جنہوں نے ایوب خان ، ذوالفقار علی بھٹو اور ضیاء الحق جیسے ڈکٹیٹروں کے اقتدار کے قلعے مسمار کئے تھے۔ مگر افسوس یہ ہے کہ ہم یہ سب اپنی زندگی میں دیکھنے سے ابھی تک محروم ہیں اور ہماری مزید بدقسمتی یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایسے کسی منظرنامے کو دیکھنے کو کوئی امید بھی نہیں کیوں کہ ہماری جنزی کسی انقلاب کی نہیں بلکہ کلچرل ڈیز اور نائیٹس کے نام پر ناچ گانے کی خوگر نظر آ رہی ہے۔
تعلیمی اداروں میں مایوسیوں کا راج نافذ کرنے کا کردار اگر کسی ایک فرد کو دیا جائے تو وہ پاکستانی تاریخ کے مکروہ ترین ڈکٹیٹرز میں سے ایک جنرل ضیاء الحق کو جاتا ہے جس نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے تعلیمی اداروں میں نظریاتی سیاست اور آزاد فکری مباحث کی حوصلہ شکنی کی اور علاقائی ، لسانی اور طبقاتی سیاست کر پروان چڑھایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم دنیا بھر میں یونیورسٹیوں میں بنتے، بڑھتے ، ابھرتے انقلاب ہر روز دیکھتے ہیں، ان کی جنریشن زی کو اپنے ملکوں کی قسمتوں کا فیصلہ ساز بنتے دیکھتے ہیں ، مگر ہمارے اپنے افق پر صرف مایوسی کے سیاہ بادل ہیں جن کی گہرائی میں ہر گزرتے دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
