Search This Blog

Tuesday, February 24, 2026

 

بنگلہ دیش میں انتخابی عمل اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے اور جماعتِ اسلامی 68 حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد نتائج تسلیم کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا حصہ بن گئی ہے۔ یہ محض 68نشستوں پر  کامیابی نہیں، بلکہ ایک طویل سیاسی جدوجہد کے بعد جماعت اسلامی کی مرکزی دھارے  کی سیاست میں باوقار واپسی کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جماعتِ اسلامی نے جس جوش، تنظیمی قوت اور ابلاغی مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے دوست و دشمن سب کو متوجہ رکھا۔

الیکشن کے دوران جماعتِ اسلامی کے انتخابی ترانوں کی گونج ملک بھر میں سنائی دیتی رہی اور ان ترانوں کو پس منظر میں رکھ کر بنائی گئی ویڈیوز ٹک ٹاک و انسٹاگرام پر لاکھوں کے ویوز حاصل کرتی رہیں ، مگر اس مہم کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو جلسوں میں اسٹیج کا غیر معمولی نظم و ضبط تھا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے جلسوں میں اکثر اسٹیج خود ایک چھوٹے جلسے کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے، مگر بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی نے اس روایت سے ہٹ کر ایک منظم اور سنجیدہ تاثر قائم کیا۔ ان کی سٹیج مینجمنٹ کسی حد تک رجب طیب اردگان کی قیادت میں  آک پارٹی  کے جلسوں سے مشابہ دکھائی دی، جہاں لاکھوں کے مجمع سے خطاب کے لیے اسٹیج پر صرف مرکزی قیادت یا مقرر موجود ہوتے تھے  اور کبھی کبھار تو صرف طیب اردگان صاحب ہی اپنی اہلیہ محترمہ اور سیکیورٹی کے اہلکاران کے ہمراہ سٹیج پر نظر آتے۔ ان  کے جلسوں کا سٹیج  دیکھ کر یہ بھی واضح ہوا  کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی میں تنظیمی  نظم و ضبط کا لیول کیا ہے۔

جماعت اسلامی نے ان انتخابات سے بہت کچھ حاصل کیا ہے ۔ جماعت اسلامی کی انتخابی ساکھ بحال ہوئی ہے، پوری دنیا نے جماعت اسلامی کو مرکزی سیاسی دھارے کا حصہ بنتے دیکھا ہے ، جماعت اسلامی کی تنظیم نے اپنی کھوئی ہو ئی انتخابی طاقت بحال کی ہے اور ملک کے طول و عرض میں اس نے ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر اپنی پہچان بنائی  ہے۔کل ڈالے گئے ووٹوں کا ٪ 31.76  (تقریبا 32 فیصد) جماعت اسلامی نے حاصل کیا ہے جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے 49.97% ووٹوں سے صرف 12% کم ہے مگر نشستوں کی تعداد کے لحاظ یہ فرق 70% اور 21% بنتا ہے۔ یعنی بی این پی 50% ووٹ لے کر 70% نشستوں پر کامیاب ہوئی جبکہ جماعت اسلامی 32% ووٹ لے کر بھی پارلیمنٹ کی صرف 21% نشستیں حاصل کر پائی۔ ووٹوں کے تناسب سے جماعت اسلامی کو   کم از کم 107 نشستیں حاصل کرنی چاہیے تھیں  جبکہ بی این پی کی 167 نشستیں بنتی تھیں اور یوں جماعت اسلامی اگر حکومت نہ بھی بنا سکتی تب بھی بی این پی دو تہائی اکثریت حاصل کر کے من مانے فیصلے کرنے سے  قاصر رہتی ۔

جماعت اسلامی کی مجموعی  انتخابی حکمتِ عملی انتہائی شاندار ہونے کے باوجود چند خامیوں سے دوچار بھی دکھائی دی ۔ کھلنا سے  اپنے واحد ہندو امیدوارکرشنا نندی کو ٹکٹ دے کر جماعت نے ہمہ گیریت کا ایک مثبت اشارہ  تو دیا، مگر ایک کروڑ تیس لاکھ ہندو آبادی (کل آبادی کا تقریباً 8 فیصد) کے حامل ملک میں صرف ایک ہندو امیدوار کو میدان میں اتارنا ہمہ گیریت کے اصول سے ہم آہنگ نہ تھا۔ آبادی کے تناسب سے کم از کم 25 ہندو امیدوار ان کو ٹکٹ دینا اس تاثر کو مضبوط کر سکتاتھا کہ جماعت اقلیتوں کو علامتی نہیں بلکہ حقیقی شراکت دار سمجھتی ہے۔

اسی طرح 51 فیصد خواتین کی  آبادی والے ملک میں، جہاں جماعت کی خواتین کی فعال تنظیم موجود ہے اور حالیہ عوامی تحریک میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی نوجوان خواتین نے انتہائی اہم کردار بھی ادا کیا، کسی خاتون کو ٹکٹ نہ دینا ایک واضح کمی کے طور پر سامنے آیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف جماعت کے معتدل تاثر پر اثر انداز ہوا بلکہ ممکنہ ووٹ بینک کو بھی محدود کر گیا۔

الیکشن کے لئے امیدوار چنتے وقت بھی جماعت نے جن زی  (جنریشن Z) کو مکمل تو نہیں مگر پھر بھی کچھ حد تک نظر انداز کر کے  الیکشن مہم کے ایک اہم عنصر کو قدرے بے کار کر دیا۔ سوشل میڈیا کے اس دور یہ جنریشن الیکشن مہم کا ایک فیصلہ کن کردار بن سکتی تھی بشرطیکہ اس مناسب طور پر ہینڈل کر لیا جاتا۔  ساڑھے انسٹھ فیصد کے ٹرن آوٹ میں اس جنریشن کے ووٹوں کا تناسب  بوڑھوں (Millennials) کی بہ نسبت کم رہا حالانکہ شیخ حسینہ واجد کے حکومت کو گرانے والے یہی لوگ تھے ۔ بنگلہ دیش کے انقلابی شاعر نذر الاسلام کی نظمیں بے مثل انداز سے پڑھنے والے زبردست مقرر اور جولائی 2024ء کے  مون سون یا جنریشن Z  انقلاب   برپا کرنے والے طیب عثمان ہادی ، جسے مبینہ طور پر ہندوستانی کے حامی طاقتوں نے شہید کر دیا تھا، اسی جنریشن  کے نمائندہ اور قائد تھے۔ مگر بی این پی اور جماعت اسلامی دونوں نے الیکشن میں اس جنریشن کو تقریباً نظر انداز کر دیا  جبکہ جن زی  کی اپنی پارٹی این سی پی الیکشن کی سیاست نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے کوئی خاص  نتیجہ دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

 اگر جماعت اسلامی ڈھاکہ، چٹاگانگ، بوگرہ ، نواکھلی  اور فینی جیسے اضلاع میں جہاں پر روایتی طور پر بی این پی فتوحات حاصل کرتی رہی ہے اور اس الیکشن میں بھی ان اضلاع میں تقریبا کلین سویپ کیا ہے، مون سون انقلاب کے نوجوانوں کو (جن کی اکثریت اسلامی چھاترو شبر کی شکل میں جماعت اسلامی سے ہی وابستہ تھی) کو میدان میں اتارتی تو بی این پی امیدواران کو دن میں تارے دکھائی دے سکتے تھے مگر جماعت اسلامی نے عمومی طور پر اپنے روایتی امیدوار ان پر اکتفا کیا جو ان تمام اضلاع میں (سوائے ڈھاکہ کی 20 میں سے 5 نشستوں کے) بی این پی کو  فیصلہ کن فتح حاصل کرنے سے نہ روک سکے۔

مگر ان تمام وجوہات میں جو سب سے نمایاں اور سب سے ذیادہ ہمہ گیر اثرات کی حامل وجہ رہی وہFPTP   (First-Past-The-Post)  یا اکثریتی انتخابی نظام تھا۔ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی اپنے حلقے میں سب سے ذیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے بے شک اس کے حاصل کردہ ووٹ اسے کے مخالف پڑنے والے ووٹوں سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔ اس نظام کی بدترین خرابی یہ ہے کہ یہ پارٹی کے بجائے امیدوار کو مضبوط کرتا ہے اور پارٹیاں بھی متوقع طور پر  جیتنے والے امیدوار کو ٹکٹ دینے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش انتخابی اصلاحات کے تحت اکثریتی کے بجائے متناسب نمائندگی  کے اصول کے تحت انتخابات پر اصرار کرتی اور اس مطالبے کو منوانے میں کامیاب ہو جاتی، جو یقینا ناممکن نہ تھا، تو الیکشن کی صورتحال کلی طور پر بدل سکتی تھی۔

الیکشن سے پہلے ہونے والے تقریبا تمام سروے بی این پی اور جماعت اسلامی کو برابر کے جوڑ کی پارٹیاں بتا رہے تھے اور حاصل کردہ ووٹوں نے کسی حد تک ان جائزوں کو درست بھی ثابت کیا مگر اکثریتی انتخابی نظام کی وجہ سے ہر حلقے میں سب سے ذیادہ ووٹ لینے والے بی این پی کے امیدوار تعداد میں ذیادہ نکلے اور یوں بی این پی نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت قائم کر لی ہے ۔ تاہم متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت اگر دونوں جماعتوں کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد یہی رہتی تب بھی بی این پی ذیادہ سے ذیادہ 167 نشستیں حاصل کرسکتی اور جماعت اسلامی کی نشتوں کی تعداد 107 -108 تک ہو سکتی تھی

پاکستان کے حالیہ انتخابات کی مثال بھی اس تضاد کو واضح کرتی ہے۔ 2024ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نےکل ووٹوں کا  31%حاصل کرکے 93 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن نے 24% ووٹ حاصل کر کے 75 نشستیں جیتیں۔  جماعت اسلامی 2.3%ووٹ حاصل کر کے بھی کوئی نشست اپنے نام نہ کر سکی۔ یہی الیکشن اگر متناسب نمائندگی کے تحت ہوتے تو  تحریک انصاف 124 نشستوں کی حقدار ٹھہرتی جبکہ مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدوار ان کی تعداد90 ہوتی جبکہ  جماعت اسلامی کم از کم 8 نشستیں حاصل لیتی۔  متناسب نمائندگی کے تحت ڈالے گئے ہر ایک ووٹ کی قیمت ہوتی ہے جبکہ FPTP میں پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار کو ڈالے گئے ووٹوں کی اہمیت تو ہوتی ہے مگر ہارنے والے تمام امیدواران کے ووٹ ردی کے کاغذ سے ذیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔

بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی الیکشن  حکمت عملی سے پاکستان کی جماعت اسلامی کئی سبق سیکھ سکتے ہے۔ مثلاً یہ کہ الیکشن FPTPکے بجائے  متناسب نمائندگی کے تحت کروانے کی کوشش کرے اور اس کے لئے بھر پور مہم چلائے، جن حلقوں میں اس کے روایتی امیدوار واضح  طور پر جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ،  وہاں جنریشن Zکو میدان میں اتارا جائے ، اقلیتوں اور خواتین کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کرے اور ہاں سٹیج مینجمنٹ اور شاندار قسم کے انتخابی نغموں کے لئے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی خدمات مستعار لینے میں کوئی قباحت نہیں تاکہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر صرف جماعت اسلامی والے نہیں عام لوگ بھی اپنی ویڈیوز میں وہ نغمے پس پردہ  استعمال کرکے لاکھوں کے ویوز حاصل کر سکیں  تو  موجودہ حالات میں سیاسی منظر نامے میں کلی طور پر irrelevant  ہونے والی جماعت اپنی انتخابی اور سیاسی ساکھ بحال کرسکتی ہے۔

 

Saturday, December 13, 2025

جماعت اسلامی کے کئی روزہ اجتماعات

 

جماعت اسلامی نے مینار پاکستان پر منعقد ہونے والے کل پاکستان اجتماع کے حوالےسے  اعلان کیا تھا کہ بدل دو نظام کے نعرے کے تحت یہ ایک منفرد پروگرام ہو گا جہاں سے ایک نئی تحریک کا آغاز ہو گا اور ملک کے نظام کو حقیقی تبدیلی سے آشنا کیا جائے گا۔ اس اجتماع  کے حوالے سے ملی جلی آرا سننے کو ملیں۔ بہت سوں نے اسے جماعت کا ایک اور منظم ایونٹ قرار دیا جس میں خواتین کی نمائندگی اور شرکت کو سراہا گیا تاہم کچھ نے انتظامات کے حوالے سے کمی کو تاہی  کا ذکر بھی کیا۔

تاہم اہم یہ نہیں کہ یہ اجتماع کتنا منظم تھا اور اس میں حاضری کتنی تھی اور کتنی خواتین شریک ہوئیں، اہم یہ ہے کہ یہ اجتماع جماعت اسلامی کے  گزشتہ اجتماعات سے کس قدر منفرد تھا اور جماعت کی قیادت نے جس نئی تحریک کے آغاز کا ذکر کیا تھا اس کی کیا پوزیشن ہے۔

جماعت اسلامی جیسی عالمگیر نوعیت کی تحاریک سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ جمع تفریق کئے بغیر کسی ایونٹ کا انعقاد کریں اور پھر اس کا حاصل ضرب معلوم کئے  بغیر   کسی نئی سرگرمی میں مصروف ہو جائیں۔ بلکہ یہ امید کسی بھی باشعور سیاسی جماعت، دینی جماعت، انقلابی جماعت، الغرض کسی سے بھی نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ سرگرمی برائے سرگرمی  انجام دیں اور اس کے مثبت یا منفی اثرات سے انجان  رہیں۔ جماعت اسلامی کے  اس اجتماعات پر بلامبالغہ کروڑوں روپے خرچ ہوئے ہوں گے، جماعت اسلامی کے کارکنان نے ہفتوں مہینوں  محنت کی ہو گی اور جماعت اسلامی کی قیادت نے   بھی جمع تفریق کی ہو گی اسی لئے ملک کے طول و عرض میں ہونے والے 23  نومبر  کے ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے بجائے  کئی دن کا یہ اجتماع کرنے کا فیصلہ کیا ہو گا۔

کئی دنوں کے اجتماعات منعقد کرنے کی روایت خالص مذہبی جماعتوں  میں (جیسے تبلیغی جماعت )،  اصلاحی و روحانی جماعتوں میں  (جیسے پنج پیر یا پیر ذوالفقار نقشبندی صاحب کی جماعتوں وغیرہ ) یا پھر  بریلوی مکتبہ فکر کے   پیروں  کے گدی نشینوں کے ہاں (سالانہ عرس  کی شکل میں) تو پائی جاتی ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت یا دینی و سیاسی جماعت اس طرح کی سرگرمی انجام  نہیں دیتی۔ اس معاملے میں جماعت اسلامی واحد استشناء ہے جو تواتر کے ساتھ کئی روزہ اجتماعات عام کرتی رہتی ہے۔

تبلیغی جماعت کی سہ روزہ اجتماعات اور پیروں کے کئی روزہ عرس خالصتاً  ثواب کی نیت سے منعقد کئے جاتے ہیں اور ان میں شرکت کا واحد مقصد بھی ثواب  ہی ہوتا ہے۔ ایسے اجتماعات کی ساخت بھی کلی طور پر  "ثوابی" نوعیت کی ہو تی ہے جن کے منتظمین کسی دور رس نتیجے یا ہدف کے حصول سے بے نیاز ہو تے ہیں  اور ان میں شرکت کرنے والے افراد بھی اخروی زندگی کی جمع تفریق کرکے ان اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔   اس کے مقابلے میں جماعت اسلامی نے اپنے اجتماع کو بدل دو نظام کے نعرے کے تحت منعقد کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ ایک  ایسی نئی تحریک کا آغاز  کرنے جا رہی ہے جو اس ملک میں قائم نظام کو بدل دے گی۔

اس اجتماع کو ختم ہوئے  مہینہ بھر ہونے کو ہے،مگر ملکی منظر نامے پر اس وقت صرف دو معاملات نمایاں ہیں۔ تحریک انصاف کے  اسیر قائد عمران خان کے حامی و مخالفین کی ہاہا کار ہے  اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دندناتا  دہشت گردی کا خوفناک دیو ہے جو کسی کے قابو میں نہیں آ رہا۔ جماعت اسلامی جس اجتماع کی بنیاد پر ایک ملک گیر تحریک کی نیو ڈالنے والی تھی ،  اس کا کہیں غلطی سے بھی کوئی ذکر نہیں ، حتیٰ کہ جماعت اسلامی کے کارکنان بھی اسے بھول بھال گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ماضی کے اجتماعات کی طرح یہ بھی جماعت اسلامی کی ایک سرگرمی برائے سرگرمی تھی جو  شروع ہوئی ، چند دن تک میڈیا میں اس کا تذکرہ رہا اور اب وہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے   ۔ اب  جماعت اسلامی ایک مرتبہ  پھر کسی سرگرمی کے لئے وسائل دستیاب کرے گی، وہ سرگرمی انجام دے گی اور  جماعت اسلامی کو کوئی نفع و نقصان پہنچائے بغیر  وہ سرگرمی بھی ختم ہو جائے گی اور ایک مرتبہ پھر  ہر طرف ایک   خاموشی  سی چھا جائے گی۔

جماعت اسلامی کے اجتماعات عام جیسی تمام  سرگرمیاں کم و بیش  ایک ہی ساخت کی ہوتی ہیں جن کا  واحد مقصد شاید  اپنے کارکنان کو مصروف رکھنا ہوتا ہے ۔  حالیہ اجتماع بھی ماضی میں ہونے والے اجتماعات کی ایک فوٹو سٹیٹ  کاپی  تھا جس میں جماعت اسلامی کے ہم خیال افراد جمع ہوئے،  آپس میں گپ شپ لگائی ، کچھ مقامی اور کچھ بیرونی خواتین و حضرات کی  تقاریر سنیں، کچھ قراردادیں پاس کیں اور بلند و بانگ دعووں کے سائے میں  اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہو گئے۔ مختصراً  یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ جماعت اسلامی کے ہم خیال لوگوں کے لئے ایک سہ روزہ آوٹنگ  کا پروگرام تھا  جو پہلے بھی منعقد ہوتا رہا ہے اور شاید آئند ہ بھی  منعقد ہوتا رہے  جس کا  ملکی  سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔

بہت محتاط انداز میں یہ بات کی جا سکتی ہے کہ جماعت اسلامی اپنے کارکنان کو خواہ وہ اسلامی جمیعت طلبہ کے  کالجوں یونیورسٹیوں کے طلباء ہوں یا پھر  جماعت اسلامی کے اپنے بزرگ و نوجوان کارکنان،  صرف دو صلاحیتیں سکھاتی ہے۔ اول یہ کہ چندہ یا اعانت یا ڈونیشن کیسے جمع کرنی ہے اور دوم یہ کہ تقریر کیسے کرنی ہے۔ جماعت اسلامی کی مرکزی لیڈر شپ سے لے کر مقامی سطح تک تمام لوگ ان دو  خصوصیات سے واضح طور پر مزین دکھائی دیں گے۔ یہ طے ہے کہ وہ عمومی طور جانے مانے ایماندار ہوتے ہیں  ( اور یہ بھی جماعت اسلامی کے اجتماعات اور لٹریچر کا ایک ذیلی پراڈکٹ ہے) جس کی وجہ سے لوگ آنکھیں بند کر کے انہیں ڈونیشن دیں گے اور دوم یہ کہ وہ زبردست مقرر ہوں گے۔ اس کے علاوہ  نہ تو جماعت اسلامی  نے کبھی شعوری طور پر کوئی  سیاسی   بیانیہ  تشکیل دینے کی کوشش کی  ہے (قاضی حسین احمد صاحب  کے ظالمو قاضی آرہا ہے کے استشناء کے ساتھ)، نہ  ہی اپنے کارکنان  کو  مٔوثر  سیاسی کارکن بنانے کی کوشش کی ہے ، نہ انہیں کاروباری سلطنتیں قائم کرنے کا طریقہ سکھایا ہے،  نہ انہیں سرکاری اداروں میں نفوذ  کرنے اور نظام پر اثر انداز ہونے  کی رہنمائی کی ہے  اور نہ ہی انہیں   میڈیا ہائوسز  بنانے  یا  شوکت خانم  و آغا خان کے جیسے ادارے قائم کرنے کے گر سکھائے ہیں۔

چند دن تک چند ہزار یا چند لاکھ لوگوں کو ایک جمع کر کے ان کے کھانے پینے کا انتظام کر کے انہیں تقریریں سنوانا یقینا ایک بڑا  کام ہے مگر   یہ  اینگرو کارپوریشن  ، سائبرڈ  یا فالکرم  جیسی کوئی کمپنی قائم کرنے ،   حبیب بینک  ، میزان بینک یا شفاء ہسپتال جیسا کوئی ادارہ قائم کرنے اور  کسی انتخابی حلقے کو فتح کرنے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔

مان لیتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں  کمپنیاں اور ادارے  قائم نہیں کرتیں  مگر سیاسی جماعتیں اپنی تمام سرگرمیاں  کسی انتخابی عمل کو  متاثر کرنے اور بالآخر  انتخابی حلقے فتح کرنے کے لئے انجام دیتی ہیں ۔ کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ایک سیاسی جماعت الیکشن کے عمل کو نظر انداز کر کے چند دن کے لئے اپنے کارکنان کی آئوٹنگ کا اہتمام کر رہی ہو،  ملکی و مقامی سیاست پر اثر انداز  ہونے کے لئے کوئی بیانیہ ترتیب دینے کے بجائے  بین الاقوامی مسائل پر توجہ مبذول رکھے  ہو اور  ملکی سیاسی معاملات میں زندہ جاوید کردار ادا کرنے کے بجائے پریس کانفرنسوں تک محدود ہو اور پھر گلہ مند ہو کہ لوگوں کو کھرے اور کھوٹے کی پہچان نہیں اور  انہیں ووٹ دینے کے بجائے وہ کرپٹ سیاستدانوں کو ووٹ دے دیتے ہیں اور آخری   ہدف کے طور پر وہ فوج کو ذمہ دار قرار دے کہ  اسٹیبلشمنٹ انہیں اقتدار میں نہیں آنے دے رہی۔

یہ کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں  کہ یہ بیانیہ کی طاقت ہے جس نے  جیل میں قید ایک فرد کو مقتدر  قوتوں  کے حواس خمسہ پر سوار کر رکھا ہے ۔ عمران خان  صرف ایک فرد ہے، جس کی  نہ ہی کوئی جماعت اسلامی جیسی تنظیم ہے اور نہ ہی کوئی قابل اعتبار قیادت مگر اس کے بیانیہ کا  جادو ہے جو سر چڑھ کر بول رہا ہے  اور ہر کوچہ و بازار میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔  عمران خان صاحب سے اختلاف  کا حق ہر کسی کو حاصل ہے مگر وہ  شخص زندہ رہے یا مر جائے یا مار دیا جائے،  ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی طرح اس کا بیانیہ بھی اگلی کئی دہائیوں تک  اس ملک کی سیاست پر اثر انداز ہوتا  رہے گا۔

اور آخری بات یہ  کہ بیانیہ مینار پاکستان کے دامن میں اقبال پارک کے گوشہ عافیت میں ترتیب تو پا سکتا ہے مگر اسے پروان  چڑھانے کے لئے مال روڈ، شاہراہ فیصل،  ڈی چوک، لیاقت باغ  اور قصہ خوانی  جیسی سیاسی رزم گاہوں کی ضرورت  ہوتی ہے۔ 

Friday, December 5, 2025

فضائی جنگ کا گیم چینجر بیراکتر کزلیلما 

 


نگورنو کارا باخ کے آرمینیا سے واپس آذر بائجان کا حصہ بننے میں کئی عوامل نے کردار ادا کیا جس میں آذر بائیجان کی جرات مند قیادت اور عوام کی مسلسل جدوجہد، پاکستان و ترکیہ کی سیاسی، سفارتی اور فوجی مدد وغیرہ نمایاں تھیں مگر آرمینیا اور آذر بائیجان کی جنگ میں جس عنصر نے فیصلہ کن کردار ادا کیا وہ بیر اکتار تھا۔ ترکی کی ملٹری انجنیئرنگ کا شاہکار ڈرون جس کی جدید ٹیکنالوجی ، بے خطا نشانے اور شاندار دفاعی نظام نے آرمینیا کی فوجی قوت کو بے بس کر کے رکھ دیا۔ بیر اکتار ڈرون نے انتہائی درست نشانے لگا کر نہ صرف آرمینیا کے ائیر ڈیفینس سسٹم کے پرخچے اڑا دئیے بلکہ آرمینیائی ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور دیگر حملہ آور گاڑیوں کو بھی تباہ و برباد کر کے آذر بائیجان کو فیصلہ کن فتح سے ہمکنار کروایا۔ یوں بغیر انسان کے پرواز کرنے والے ڈرون نے یہ ثابت کیا کہ جنگ کا پانسہ پلٹنے میں اس کردار ناقابل فراموش ہے۔

جنگی ڈرون طیاروں کی کچھ عرصہ قبل تک کل صلاحیت فضا سے زمین میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانا تھی تاہم چند یوم قبل ترکیہ نے بائر اکتار کے جدید ترین ورژن کزلیلما کے ذریعے ایک حیرت انگیز کارنامہ انجام دیا جس میں اس جدید ترین ڈرون نے جیٹ طیارے سے فائر کئے گئے ایک ہدف کو فضا میں ہی تباہ کر ڈالا اور یوں فضا سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے والے دنیا کے پہلے ڈرون کا اعزاز اپنے نام کیا۔  آج تک تمام فضائی افواج فضا سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے کے لئے جیٹ طیارے استعمال کرتی  رہی ہیں جس میں جنگی جہاز میں نصب میزائل فائر کر کے فضائی ہدف کو نشانہ بنایا جاتا ہے تاہم کسی ڈرون کے ذریعے فضا سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے کا دنیا میں یہ پہلا مظاہرہ تھا جس نے پوری دنیا میں ڈرون ٹیکنالوجی میں ترکی کی سبقت کو ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے۔

کزلیلما نہ صرف فضا سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ فضا سے زمین پر مار کرنے کی ثابت شدہ صلاحیت رکھتا ہے جبکہ یہ سمندری جنگوں میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کثیر الجہتی حربی قوت نے جنگی ٹیکنالوجی میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا ہے کہ جو کام پہلے جنگی طیارے سرانجام دیا کر تے تھے اب انہیں زمین سے کنٹرول ہونے والے ڈرون سر انجام دیں گے۔

 بیر اکتار کزلیلما کا یہ مظاہرہ دنیا بھر کی ائیر فورسز کی پوری ساخت کو بدلنے کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ جنگی طیاروں کی مالیت اربوں میں ہوتی ہے، جنہیں خریدنے اور پھر کارآمد رکھنے کے لئے پاکستان جیسے مالی طور پر کمزور ممالک کی ریڑھ کی ہڈی تک چٹخ جاتی ہے۔  مثال کے طور پر موجودہ جنگی جہازوں میں سے جدید ترین امریکی جنگی جہاز ایف-35 (بی اور سی) کی مالیت کم و بیش 110ملین ڈالر (31 ارب روپے) ہے، یورو فائیٹر ٹائیفون کی مالیت 117 ملین ڈالر (33 ارب روپے)، چین کے شینگ ڈو J-20  اور فرانس کے رافیل کی مالیت 100 ملین ڈالر (28 ارب روپے) ہے جبکہ ان کے مقابلے میں جدید جنگی ڈرون طیاروں کی مالیت چند ملین ڈالر ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر بیر اکتار ڈرون کی مالیت 2 سے 5 ملین ڈالر (تقریباً 50  کروڑ سے 2 ارب روپے) تک ہو سکتی ہے۔

 قیمت کے علاوہ جنگی طیاروں میں دوسرا اہم عنصر پائلٹ کا ہوتا ہے۔ جس کی بحیثیت انسان تو قیمت نہیں لگائی جا سکتی تاہم اس کی ابتدائی تربیت، تنخواہ و مراعات اور دوران سروس مسلسل تربیتی عمل کا خرچ بھی ملکوں کو کئی ملین ڈالرز میں پڑتا ہے۔ جبکہ خطرات و جوکھم (Risk) اور خطا کا امکان بھی ذیادہ ہوتا ہے۔

کیزلیلما نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اربوں روپے کے یہ تمام اخراجات چند کروڑ تک محدود کئے جا سکتے ہیں اور خطرات کو کم جبکہ اہداف کا درست طور پر نشانہ بنانے کا امکان بہت حد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ کمرشل بنیادوں پر کیز لیلما کی پیدوار اور دوسرے ممالک میں ٹیکنالوجی کی برآمد کے بعد اس امر کا قوی امکان ہے کہ کمزور ممالک سینکڑوں جیٹ فائٹرز پر مشتمل کھربوں روپوں کی ائیر فورسز رکھنے کے بجائے کیز لیلما جیسے ڈرونز کو رکھنے کو ترجیح دیں گے اور یہ فضائی دفاعی نظام میں ایک بڑی تبدیلی عمل پزیر ہو جائے گی۔

ڈرون ٹیکنالوجی میں امریکہ کی جنرل اٹامکس، نارتھرپ گرومن اور اور ائیروائرونمنٹ یا اسرائیل کی البت سسٹمز جیسی دیوہیکل کمپنیوں کے مقابلے میں ترکیہ کی بائیکر ڈیفینس ایک نئی اور چھوٹی کمپنی ہے تاہم جدت کے لحاظ سے اس نے اپنی ہم عصر تمام کمپنیوں کو برابر کی ٹکر دی رکھی ہے۔

اس کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ترکیہ کی ڈرون ٹیکنالوجی کے بانی و معمار سلجوق بیرقدار ہیں جو بائیکر ڈیفینس کے چئیرمین ہیں اور صدر رجب طیب اردوگان کے داماد بھی ہیں۔

طیب اردگان کی قیادت میں گزشتہ 25 سالوں میں ترکی نے صرف معاشی اور سیاسی طور پر ہی ترقی نہیں کی بلکہ ٹیکنالوجی بالخصوص ملٹری ٹیکنالوجی میں بھی نئی بلندیوں کو چھوا ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اگر سیاسی قوت مخلص، باکردار اور باصلاحیت ہو تو صرف 25 سال کے عرصہ میں ایک ڈیفالٹ ہوتا ہوا ملک دنیا کی ایک بڑی معاشی و فوجی قوت بن سکتا ہے۔ 

Saturday, July 12, 2025


 کیمروں اور فلموں اور ڈراموں کی دنیا کو بالعموم روشنیوں کی دنیا کہا اور مانا جاتا ہے اور لاکھوں نوجوان اس لائم لائٹ مِیں آنے کے خواب دیکھتے دیکھتے جوانی اور بڑھاپے کی منزلیں طے کرتے ہیں مگر درحقیقت اس سے تاریک اور وحشت ناک دنیا دوسری کوئی نہیں۔  حال ہی میں ٹیلیویژن کی معروف سینئر ادکارہ عائشہ خان اور پھر اس  کے بعد ایک نوجوان ادکارہ حمیرا اصغر کی  دردناک اموات ان سب  افراد کے لئے باعث عبرت ہونی چاہیں جو روشنیوں کی چکا چوند، کیمروں کے لش پش اور میک اپ  کی سرخی  و تابانی کو حقیقت سمجھ کر دن رات اس کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ درجنوں کی تعداد میں کسمپرسی و لاچاری کا شکار ادکار و فنکار ، جو جوانی کے ڈھل جانے اور آواز کی کھنک ختم ہو جانے پر تنگ و تاریک کمروں کی قیدی بنے ہوئے ہیں ، زبان حال سے اس بات کی گواہی دیتے نظرآتے ہیں کہ  بظاہر چمکتی دمکتی فلم و فن کی دنیا درحقیقت کتنی تاریک  ہے۔

مذکورہ بالا دونوں اموات نے یہ حقیقت طشت از بام کر دی ہے کہ فن کی دنیا صرف چڑھتے سورج کی پجاری ہے۔ اگر آپ کا حسن  اور صحت برقرار  ہے، آپ کی آواز کی کھنک سننے والوں کو محظوظ کر سکتی ہے اور آپ روشنیوں کی بہائو کے درمیان چمکتے دمکتے دکھائی دے سکتے  ہیں تو  آپ قیمتی ہیں  ورنہ آپ کی لاش اگر سال چھ مہینے تک کسی تنگ و تاریک فلیٹ میں گلتی سڑتی بھی رہے تو پلٹ کر پوچھنے والا بھی کوئی نہیں  کہ آپ  پر کیا گزری۔

حمیرا اصغر کی موت کا دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ اول  اس کے خاندان نے اس کے مردہ جسم بلکہ گلی سڑی لاش کو اپنانے سے انکار کیا اور اگر کسی معاشرتی دبائو یا أولاد کے دبی محبت کی وجہ سے انہوں نے وہ لاش وصول تو کر لی اور اس کے کفن دفن کا بھی انتظام کر دیا مگر یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسا انہوں نے کس دل کے ساتھ کیا  ہے۔

والدین کے لئے اپنی زندگی کی کل متاع ان کی أولاد ہوتی ہے۔ فیمنزم اور میرا جسم میری مرضی کی پرچارک آنٹیوں نے نوجوان نسل کو خاندان سے بغاوت اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کے ایسے غلط  راستے پر ڈالنے کی کوشش کی ہے جس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے حمیرا اصغر کے سفید ریش باپ نے اس کے ہاتھوں کتنے درد سہے ہوں گے، کتنی تکالیف برداشت کی ہوں گی اور کتنی بے کسی سے اس سے کنارہ کشی اختیار کی ہو گی کہ میری بیٹی میرا جسم میری مرضی کے جس راستے پر چل پڑی ہے وہ مجھے قبول نہیں۔ ہر حیادار شخص اپنی بیٹی  کو بالخصوص عزت اور حیا کے ساتھ زندگی گزارتے دیکھنا چاہتا ہے۔ فیمینزم کے پرچارک اس کے والدین اور بھائی کے دقیانوسی ہونے پر خوب لعنت ملامت کر رہے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ اس باپ اور بھائی نے کتنی کوشش کی ہو گی کہ ان کی بہن بیٹی حیاکی چادر کو سر سے نہ اتارے اور اسلامی و مشرقی روایات کے ساتھ اپنی زندگی گزارے مگر یقینا وہ اسے روشنیوں (درحقیقت اندھیروں ) کی دنیا میں جانے سے روکنے میں ناکام ہوئے ہوں گے اور بالآخر معاملہ قطع تعلق تک پہنچ گیا ہو گا۔

موت کے بعد مردے کی صرف اچھائیاں بیان کرنا نہ صرف ہمارے دین  کی تعلیم ہے بلکہ معاشرتی روایت بھی ہے، ہم بھی اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ مرحومہ پر اپنا فضل و کرم فرمائے اور جو تکلیف اس نے اور اس کی میت نے اس دنیا میں برداشت کی ، اس کے بدلے اسے اپنی رحمتوں سے نوازے مگر تمام نوجوانوں ، مرد و خواتین ، کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ اگر آپ اپنے جسم پر اپنی مرضی کے موجودہ  نظریات کی پیروی کریں گے  اور والدین و معاشرتی روایات اور دینی ہدایات سے بغاوت کریں گے تو پھر معاشرہ آپ کے والدین کو گناہ گار ٹھہرانے میں حق بجانب نہیں  ہو گا کہ جس زندہ جسم پر آپ اپنی مرضی چاہیں ، اس جسم کی موت ہو جائے تو وہ آپ کے والدین یا خاندان کی ذمہ داری ہو۔

Thursday, June 12, 2025


-

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سرمایہ دار اپنا سرمایہ صرف کمپنیوں میں ہی نہیں لگاتا بلکہ سیاستدانوں پر بھی بے دریغ خرچ کرتا ہے۔ بظاہر تو وہ ایسا وسیع تر قومی مفاد میں کرتا ہے مگر درحقیقت وہ اس سرمایہ کاری سے اپنے سرمایے کو محفوظ بنانے اور مزید سرمایہ حاصل کرنے میں سہولت کاری کی کوشش کرتا ہے۔بھارت میں  نریندرا مودی پر سرمایہ کاری کرنے والے  گوتم ادانی ا ور سجان جندل اور ماضی بعید میں ویرو بھائی امبانی ،  روس میں ولادی میر پیوٹن کی سیاسی مہمات کو فنانس کرنے والے رومان ابراہیموچ ،  جنوبی کوریا  کی صدر پارک گنہے پر سرمایہ کاری کرنے والے سامسنگ گروپ کے مالک  لی جے یانگ ، پاکستان میں عمران خان کی الیکشن مہم پر بے دریغ پیسہ لٹانے والے جہانگیر ترین  اور حال ہی میں امریکی الیکشن پر اثر انداز ہونے والے ٹیسلا اور سپیس ایکس جیسی کمپنیوں کا مالک ایلن مسک  اس کی چند  نمایاں مثالیں ہیں۔
اس قسم کی سرمایہ کاری کو تقریبا تمام دنیا میں عمومی طور پر قبول کیا جاتا ہے تاہم  تصویر کا رخ تب بدلتا ہے جب کوئی سرمایہ کار اپنی سرمایہ کاری کا ، اس کے خیال کے مطابق "مناسب " بدل حاصل نہیں کر پا تا اور دونوں کے درمیان تعلقات خراب یا پھر ختم ہو جاتے ہیں۔ جنوبی کوریائی سرمایہ دار  لی جے یانگ  کو تو کوئلوں کی اس دلالی میں کئی مرتبہ جیل بھی جانا پڑا  تاہم پاکستان کے جہانگیر ترین اورامریکہ کے  ایلن مسک جیل جانے سے تو بچے رہے تاہم جن پر انہوں نے سرمایہ کاری کی تھی  ان کے ساتھ اختلافات کا منظر پوری دنیا نے دیکھا ہے۔
ایلن مسک نے کھل کر ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم چلائی اوردوران مہم یا پھر ٹرمپ کے الیکشن جیتنے کے بعد کئی مرتبہ ایسے اشارے کنائیوں میں اپنا مافی الضمیر بیان کیا ہے جس پر کافی لے دے ہوتی رہی ۔ خاص طور ایڈولف ہٹلر کی طرح اپنے ہاتھ کو محسوس انداز میں لہرانا  یا پھر ایک میکانکی آرے کو چلاتے ہوئے یہ اظہار کرنا کہ وہ امریکن بیورکریسی پر اسے چلا رہا ہے  ، پوری دنیا میں بحث کا مرکز بنے رہے۔
ایلن مسک نے ٹویٹر کو خریدنے کے بعد شاید پہلانمایاں کام یہ کیا کہ اس نے ڈونلڈ ٹرمپ کا اکائونٹ بحال کر دیا جو پرانی انتظامیہ نے پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بند کر دیا تھا۔ اسے نے نا صرف ڈیموکریٹس کے خلاف باتیں کیں بلکہ کھلے عام  ریبلکن کو ووٹ دینے کا اعلان کیا۔  وہ ریبلکنز کی فلوریڈا میں ہونے والے ڈونرز کی کانفرنس میں بھی شریک رہا۔ اس  نے ٹویٹر پر(جسے اب ایکس کہا جاتا ہے)دائیں بازو  کے  انفلوئنسرز کے   جو ریبلکنز کو سپورٹ کرتے ہیں ، نا صرف اکائونٹ کھول دیئے  بلکہ ان کو باقاعدہ پروموٹ کرنا شروع کر دیا۔ مسک نے ٹرمپ کے خلاف ہونے والے مواخذے کی کاروائیوں کو بھی ہدف تنقید بنایا اور کھل کر ٹرمپ کی حمایت کی۔   سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کے اس امیر ترین شخص نے ڈونلڈ ٹرمپ کی الیکشن مہم میں 288 ملین ڈالر (81.3 ارب روپے) کی خطیر رقم خرچ کی اور یوں وہ امریکی تاریخ  کے سب سے بڑے سیاسی عطیہ کنندہ کے طور پر سامنے آیا ۔ اس نے نہ صرف خود اتنی خطیر رقم عطیہ کی بلکہ اپنے قریبی دوستوں انتونیو گریژیاث ، جو لونز ڈیل اور شان میگوائر سے بھی بڑے بڑے عطیات دلوائے ۔ حد تو یہ ہے کہ وسکانس کی ایک عدالت  میں ایلن مسک کے خلاف ووٹروں کو 100 ڈالر فی کس رشوت دینے  اور الیکشن کے عمل پر اثر انداز ہونے کے حوالے سے ایک کیس بھی دائر کر دیا گیا ہے  حلانکہ وہ اس کا اقرار نہیں کرتا۔
 ظاہر ہے ایلن مسک نے یہ سب  ڈونلڈ ٹرمپ کی محبت میں تو نہیں کیا بلکہ لازمی طور پر وہ اپنی کمپنیوں سپیس ایکس، ٹیسلا، ایکس  ، نیورا لنک وغیرہ کے لئے حکومتی مراعات کا امیدوار ہو گا اور بجا طور پر امید رکھتا ہو گا کہ ٹرمپ صدر بننے کے بعد اس کے کاروباری سلطنت کے حوالے سے دوستانہ فیصلے لے گا۔ تاہم یہ حیران کن تھا جب ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد اسے نئے قائم شدہ حکومتی محکمے " ڈپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی" کا سربراہ مقرر کر دیا اور یوں وہ ریاستی پالیسیوں میں براہ راست شریک ہو گیا۔  اس نے کم و بیش وہی حیثیت اختیار کر لی جو پاکستان میں کبھی جہانگیر ترین صاحب کو عمران خان کے دور حکومت میں حاصل رہی تھی۔
ایلن مسک اپنی کاروباری سلطنت میں یونین بازی کو پسند نہیں کرتا  اور نہ ہی وہ لیبر قوانین  اور دیگر  حکومتی قواعد و ضوابط کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے جو کاروباری مفادات کے خلاف پڑتے ہوں۔وہ حکومتی بیوروکریسی کے سخت ناقدین میں سے ہے اور چاہتا ہے کہ بڑے حکومتی انفراسٹرکچر کے بجائے سمارٹ حکومتی انفراسٹرکچر قائم ہو۔ وہ  میڈیا پر حکومتی سنسر شپ کا بھی مخالف ہے ۔  ایلن مسک اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کو سپر ایپ بنانا چاہتا ہے جو  روایتی میڈیا  کا متبادل ہو اور اس بڑھ کر وہ ایک مکمل  پیمنٹ پلیٹ فارم بھی بن جائے۔  وہ  برقی گاڑیوں، انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو اپنے کاروباری مفادات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا چاہتا ہے  اور یہ سب کرنے کے لئے اسے حکومتی سپورٹ درکار ہے  جس کے حصول کے لئے اس نے ٹرمپ پر کروڑوں ڈالر کی انوسٹمنٹ کی ۔ تاہم اس کی دال گلتی نظر نہیں آتی۔
کیونکہ اس کے ٹرمپ کے ساتھ اختلافات جلد ہی کھل کر سامنے آنے لگے اور وہ ٹرمپ کے حکومتی نظام سے علیحدہ ہو گیا بلکہ اس نے کھل کر ٹرمپ کی مخالفت شروع کر دی ہے۔ اس نے X پر حال ہی میں ایک سروے بھی کروایا ہے کہ کیا امریکہ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹس کے علاوہ بھی کوئی سیاسی قوت ہونی چاہیے یا نہیں جس کا 80 فیصد سے زائد نے مثبت جواب دیا ہے۔
بنیادی طور پر ٹرمپ خود ایک بہت بڑی کارباروی سلطنت کا مالک ہے اور کسی بھی طور ایلن مسک کے سامنے دبنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ وہ شخصی تصادم ( (Personality Clashہے  جودونوں شخصیات کے درمیان سیاسی اختلاف کا باعث بن گیا ہے۔  مسک شمسی توانائی کا  حامی اور ماحولیاتی تبدیلی کا وکیل ہے جبکہ ٹرمپ اس کو "بکواس" قرار دیتا ہے۔  مسک ایک آباد کار ہے جو جنوبی افریقہ سے امریکہ ہجرت کر کے آیا جبکہ ٹرمپ آباد کاروں کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانا  چاہتا ہے گرچہ خود ٹرمپ کے آبائو اجداد بھی جرمنی سے ہجرت کر کے امریکہ میں آباد ہوئے تھے۔  ایلن مسک کھلی مسابقتی مارکیٹ چاہتا ہے جہاں حکومتی کنٹرول کم از کم ہوں جبکہ ٹرمپ بڑے کاروباروں جیسے ٹیسلا وغیرہ کو امریکہ کی تنزلی کی وجہ سمجھتا ہے اور ان پر مزید ٹیکس عائد کرنا چاہتا ہے۔ مسک کی امریکہ میں تیسری سیاسی قوت قائم کرنے کی وکالت بھی اس کے ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کی ایک بنیادی وجہ ہے۔  ایلن مسک کی سیاست سے حالیہ دلچسپی دیکھ کر  یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ وہ امریکہ میں ایک تیسری سیاسی قوت قائم کرنے کی کوشش کرے یا بذات خود ایک تیسری  سیاسی قوت بننے کی کوشش کرے۔ 
تاہم یہ اتنا بھی آسان نہیں اور اس کا احساس ایلن مسک کو بھی ہے اس لئے اس نے ٹرمپ سے اپنے اختلافات کو ختم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔  مسک کا سرمایہ اور ٹرمپ کا اقتدار دونوں ایک دوسرے کے لئے ضروری ہیں اس لئے باوجود محتاط ہونے کے ، وہ مصالحت  کی راہ پر گامزن ہیں۔ مسک نے ایک مرتبہ پھر ٹرمپ سے ملاقات کی ہے  جواختلافات کو ختم  کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ٹرمپ نے مسک کی اس کوشش کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکی جہانگیر ترین نے تو ٹرمپ کے ساتھ پیدا ہو جانے والے اختلافات کو جلد ہی بھلانے اور مصالحت  کرنے میں بہتری سمجھی مگر پاکستانی ایلن مسک کے اپنے ٹرمپ کے ساتھ اختلافات شاید اتنے شدید تھے کہ اس میں مصالحت کو کوئی راستہ باقی نہ رہا تھا اور اس نے  اپنے ٹرمپ کو، جو اس وقت مشکل حالات سے دوچار بھی ہے، شاید ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیا ہے۔