بنگلہ دیش میں انتخابی عمل اپنے اختتام کو
پہنچ چکا ہے اور جماعتِ اسلامی 68 حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد نتائج تسلیم
کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا حصہ بن گئی ہے۔ یہ محض 68نشستوں پر کامیابی نہیں، بلکہ ایک طویل سیاسی جدوجہد کے
بعد جماعت اسلامی کی مرکزی دھارے کی سیاست
میں باوقار واپسی کی علامت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران جماعتِ اسلامی نے جس جوش،
تنظیمی قوت اور ابلاغی مہارت کا مظاہرہ کیا، اس نے دوست و دشمن سب کو متوجہ رکھا۔
الیکشن کے دوران جماعتِ اسلامی کے انتخابی
ترانوں کی گونج ملک بھر میں سنائی دیتی رہی اور ان ترانوں کو پس منظر میں رکھ کر
بنائی گئی ویڈیوز ٹک ٹاک و انسٹاگرام پر لاکھوں کے ویوز حاصل کرتی رہیں ، مگر اس
مہم کا ایک اور قابلِ ذکر پہلو جلسوں میں اسٹیج کا غیر معمولی نظم و ضبط تھا۔ جماعت
اسلامی پاکستان کے جلسوں میں اکثر اسٹیج خود ایک چھوٹے جلسے کا منظر پیش کر رہا
ہوتا ہے، مگر بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی نے اس روایت سے ہٹ کر ایک منظم اور
سنجیدہ تاثر قائم کیا۔ ان کی سٹیج مینجمنٹ کسی حد تک رجب طیب اردگان کی قیادت میں آک پارٹی کے جلسوں سے مشابہ دکھائی دی، جہاں لاکھوں کے
مجمع سے خطاب کے لیے اسٹیج پر صرف مرکزی قیادت یا مقرر موجود ہوتے تھے اور کبھی کبھار تو صرف طیب اردگان صاحب ہی اپنی
اہلیہ محترمہ اور سیکیورٹی کے اہلکاران کے ہمراہ سٹیج پر نظر آتے۔ ان کے جلسوں کا سٹیج دیکھ کر یہ بھی واضح ہوا کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی میں تنظیمی نظم و ضبط کا لیول کیا ہے۔
جماعت اسلامی نے ان انتخابات سے بہت کچھ حاصل
کیا ہے ۔ جماعت اسلامی کی انتخابی ساکھ بحال ہوئی ہے، پوری دنیا نے جماعت اسلامی
کو مرکزی سیاسی دھارے کا حصہ بنتے دیکھا ہے ، جماعت اسلامی کی تنظیم نے اپنی کھوئی
ہو ئی انتخابی طاقت بحال کی ہے اور ملک کے طول و عرض میں اس نے ایک بڑی سیاسی
جماعت کے طور پر اپنی پہچان بنائی ہے۔کل
ڈالے گئے ووٹوں کا ٪ 31.76
(تقریبا 32 فیصد) جماعت اسلامی نے حاصل کیا
ہے جو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے 49.97%
ووٹوں سے صرف 12%
کم ہے مگر
نشستوں کی تعداد کے لحاظ یہ فرق 70% اور 21% بنتا ہے۔ یعنی بی این پی 50%
ووٹ لے کر 70%
نشستوں پر
کامیاب ہوئی جبکہ جماعت اسلامی 32%
ووٹ لے کر بھی
پارلیمنٹ کی صرف 21% نشستیں حاصل کر پائی۔ ووٹوں کے
تناسب سے جماعت اسلامی کو کم از کم 107 نشستیں حاصل کرنی چاہیے تھیں
جبکہ بی این پی کی 167 نشستیں بنتی تھیں اور یوں جماعت
اسلامی اگر حکومت نہ بھی بنا سکتی تب بھی بی این پی دو تہائی اکثریت حاصل کر کے من
مانے فیصلے کرنے سے قاصر رہتی ۔
جماعت اسلامی کی مجموعی انتخابی حکمتِ عملی انتہائی شاندار ہونے کے
باوجود چند خامیوں سے دوچار بھی دکھائی دی ۔ کھلنا سے اپنے واحد ہندو امیدوارکرشنا نندی کو ٹکٹ دے کر
جماعت نے ہمہ گیریت کا ایک مثبت اشارہ تو دیا،
مگر ایک کروڑ تیس لاکھ ہندو آبادی (کل آبادی کا تقریباً 8 فیصد) کے حامل ملک میں
صرف ایک ہندو امیدوار کو میدان میں اتارنا ہمہ گیریت کے اصول سے ہم آہنگ نہ تھا۔
آبادی کے تناسب سے کم از کم 25 ہندو امیدوار ان کو ٹکٹ دینا اس
تاثر کو مضبوط کر سکتاتھا کہ جماعت اقلیتوں کو علامتی نہیں بلکہ حقیقی شراکت دار
سمجھتی ہے۔
اسی طرح 51 فیصد خواتین کی آبادی والے ملک میں، جہاں جماعت کی خواتین کی
فعال تنظیم موجود ہے اور حالیہ عوامی تحریک میں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی نوجوان
خواتین نے انتہائی اہم کردار بھی ادا کیا، کسی خاتون کو ٹکٹ نہ دینا ایک واضح کمی
کے طور پر سامنے آیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف جماعت کے معتدل تاثر پر اثر انداز ہوا بلکہ
ممکنہ ووٹ بینک کو بھی محدود کر گیا۔
الیکشن کے لئے امیدوار چنتے وقت بھی جماعت نے
جن زی (جنریشن Z) کو مکمل تو نہیں مگر پھر بھی کچھ حد تک نظر انداز کر کے الیکشن مہم کے ایک اہم عنصر کو قدرے بے کار کر
دیا۔ سوشل میڈیا کے اس دور یہ جنریشن الیکشن مہم کا ایک فیصلہ کن کردار بن سکتی
تھی بشرطیکہ اس مناسب طور پر ہینڈل کر لیا جاتا۔
ساڑھے انسٹھ فیصد کے ٹرن آوٹ میں اس جنریشن کے ووٹوں کا تناسب بوڑھوں (Millennials)
کی بہ نسبت کم رہا حالانکہ شیخ حسینہ واجد کے حکومت کو گرانے والے یہی لوگ تھے ۔ بنگلہ دیش کے انقلابی شاعر نذر
الاسلام کی نظمیں بے مثل انداز سے پڑھنے والے زبردست مقرر اور جولائی 2024ء کے
مون سون یا جنریشن Z انقلاب برپا کرنے والے طیب عثمان ہادی ، جسے مبینہ
طور پر ہندوستانی کے حامی طاقتوں نے شہید کر دیا تھا، اسی جنریشن کے نمائندہ اور قائد تھے۔ مگر بی این پی اور
جماعت اسلامی دونوں نے الیکشن میں اس جنریشن کو تقریباً نظر انداز کر دیا جبکہ جن زی کی اپنی پارٹی این سی پی الیکشن کی سیاست نہ
سمجھ سکنے کی وجہ سے کوئی خاص نتیجہ
دکھانے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
اگر
جماعت اسلامی ڈھاکہ، چٹاگانگ، بوگرہ ، نواکھلی
اور فینی جیسے اضلاع میں جہاں پر روایتی طور پر بی این پی فتوحات حاصل کرتی
رہی ہے اور اس الیکشن میں بھی ان اضلاع میں تقریبا کلین سویپ کیا ہے، مون سون
انقلاب کے نوجوانوں کو (جن کی اکثریت اسلامی چھاترو شبر کی شکل میں جماعت اسلامی
سے ہی وابستہ تھی) کو میدان میں اتارتی تو بی این پی امیدواران کو دن میں تارے
دکھائی دے سکتے تھے مگر جماعت اسلامی نے عمومی طور پر اپنے روایتی امیدوار ان پر
اکتفا کیا جو ان تمام اضلاع میں (سوائے ڈھاکہ کی 20 میں سے 5 نشستوں کے) بی این پی کو فیصلہ کن فتح حاصل کرنے سے نہ روک سکے۔
مگر ان تمام وجوہات میں جو سب سے نمایاں اور
سب سے ذیادہ ہمہ گیر اثرات کی حامل وجہ رہی وہFPTP (First-Past-The-Post)
یا اکثریتی انتخابی نظام تھا۔ پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی اپنے حلقے
میں سب سے ذیادہ ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کامیاب قرار پاتا ہے بے شک اس کے حاصل
کردہ ووٹ اسے کے مخالف پڑنے والے ووٹوں سے کم ہی کیوں نہ ہوں۔ اس نظام کی بدترین
خرابی یہ ہے کہ یہ پارٹی کے بجائے امیدوار کو مضبوط کرتا ہے اور پارٹیاں بھی متوقع
طور پر جیتنے والے امیدوار کو ٹکٹ دینے پر
مجبور ہوتی ہیں۔ اگر جماعت اسلامی بنگلہ دیش انتخابی اصلاحات کے تحت اکثریتی کے
بجائے متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت
انتخابات پر اصرار کرتی اور اس مطالبے کو منوانے میں کامیاب ہو جاتی، جو یقینا
ناممکن نہ تھا، تو الیکشن کی صورتحال کلی طور پر بدل سکتی تھی۔
الیکشن سے پہلے ہونے والے تقریبا تمام سروے
بی این پی اور جماعت اسلامی کو برابر کے جوڑ کی پارٹیاں بتا رہے تھے اور حاصل کردہ
ووٹوں نے کسی حد تک ان جائزوں کو درست بھی ثابت کیا مگر اکثریتی انتخابی نظام کی
وجہ سے ہر حلقے میں سب سے ذیادہ ووٹ لینے والے بی این پی کے امیدوار تعداد میں
ذیادہ نکلے اور یوں بی این پی نے دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت قائم کر لی ہے ۔
تاہم متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت اگر دونوں جماعتوں کے حاصل کردہ ووٹوں کی
تعداد یہی رہتی تب بھی بی این پی ذیادہ سے ذیادہ 167 نشستیں حاصل کرسکتی اور جماعت اسلامی کی نشتوں کی تعداد 107
-108
تک ہو سکتی تھی
پاکستان کے حالیہ انتخابات کی مثال بھی اس
تضاد کو واضح کرتی ہے۔ 2024ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نےکل
ووٹوں کا 31%حاصل کرکے 93 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ مسلم لیگ ن نے 24%
ووٹ حاصل کر کے
75 نشستیں جیتیں۔ جماعت اسلامی 2.3%ووٹ حاصل کر کے بھی کوئی نشست اپنے نام نہ کر
سکی۔ یہی الیکشن اگر متناسب نمائندگی کے تحت ہوتے تو تحریک انصاف 124 نشستوں کی حقدار ٹھہرتی جبکہ مسلم لیگ ن کے کامیاب امیدوار ان کی
تعداد90 ہوتی جبکہ جماعت اسلامی کم از کم 8
نشستیں حاصل
لیتی۔ متناسب نمائندگی کے تحت ڈالے گئے ہر
ایک ووٹ کی قیمت ہوتی ہے جبکہ FPTP میں پہلے نمبر پر آنے والے امیدوار کو ڈالے گئے ووٹوں کی اہمیت تو
ہوتی ہے مگر ہارنے والے تمام امیدواران کے ووٹ ردی کے کاغذ سے ذیادہ کی حیثیت نہیں
رکھتے۔
بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی الیکشن حکمت عملی سے پاکستان کی جماعت اسلامی کئی سبق
سیکھ سکتے ہے۔ مثلاً یہ کہ الیکشن FPTPکے بجائے
متناسب نمائندگی کے تحت کروانے کی کوشش کرے اور اس کے لئے بھر پور مہم
چلائے، جن حلقوں میں اس کے روایتی امیدوار واضح
طور پر جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ،
وہاں جنریشن Zکو میدان میں
اتارا جائے ، اقلیتوں اور خواتین کو نظر انداز کرنے کی غلطی نہ کرے اور ہاں سٹیج
مینجمنٹ اور شاندار قسم کے انتخابی نغموں کے لئے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی خدمات
مستعار لینے میں کوئی قباحت نہیں تاکہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر صرف جماعت اسلامی
والے نہیں عام لوگ بھی اپنی ویڈیوز میں وہ نغمے پس پردہ استعمال کرکے لاکھوں کے ویوز حاصل کر سکیں تو موجودہ حالات میں سیاسی منظر نامے میں کلی طور
پر irrelevant
ہونے والی جماعت اپنی انتخابی اور سیاسی ساکھ بحال
کرسکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment